Idara e islamiat
IJTEHAD WA TAQLEED - اجتہاد و تقلید - مولانا قاری محمد طیب صاحب | Maulana Qari Muhammad Tayyab
IJTEHAD WA TAQLEED - اجتہاد و تقلید - مولانا قاری محمد طیب صاحب | Maulana Qari Muhammad Tayyab
Couldn't load pickup availability
Size: Length -10.4 inches , Width- 6.6 inches , Height - 3 inches
Weight: 1.5 KG
Page: White Paper- Good Quality
Volume # 2
Author:
Share

زیرِ نظر کتاب اجتہاد اور تقلید اسلامی قانون کے ایک بنیادی اصول، یعنی اجتہاد، پر ایک جامع اور منظم علمی کاوش ہے۔ مصنف نے اجتہاد کے موضوع کو محض نظری بحث تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے تاریخی ارتقاء، شرعی بنیادوں، اصولی مباحث، عملی حدود اور عصرِ حاضر میں اس کی افادیت کو مختلف ابواب میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ کتاب کا اسلوب تحقیقی ہے، جس میں قرآن و سنت، آثارِ صحابہ، ائمۂ فقہ اور اصولیین کی آراء سے استدلال کرتے ہوئے اجتہاد کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
کتاب کے آغاز میں مصنف اجتہاد کی اہمیت اور اس کی شرعی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس ضمن میں اجتہاد کے لغوی و اصطلاحی مفہوم، اس کی مشروعیت اور اسلامی شریعت میں اس کے مقام کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ شریعت کے ابدی اصولوں کو بدلتے ہوئے حالات پر منطبق کرنے میں اجتہاد بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے بعد کتاب میں اجتہاد کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے اس کی اقسام، دائرۂ کار اور شرائط پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ مصنف نے واضح کیا ہے کہ اجتہاد ایک منضبط علمی عمل ہے جس کے لیے قرآن، سنت، عربی زبان، اصولِ فقہ، اجماع اور دیگر متعلقہ علوم میں مہارت ضروری ہے۔ اسی سلسلے میں مجتہد کی علمی اہلیت، مطلوبہ اوصاف اور اجتہاد کی حدود کو بھی الگ مباحث میں بیان کیا گیا ہے۔
کتاب کا ایک نمایاں حصہ اجتہاد اور تقلید کے باہمی تعلق پر مشتمل ہے۔ اس باب میں تقلید کی حقیقت، اس کی ضرورت، اس کی حدود اور اجتہاد و تقلید کے درمیان توازن کو اصولی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے مختلف فقہی مکاتبِ فکر کے نقطۂ نظر اور ان کے دلائل کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے اس مسئلے کو محض نظری اختلاف کے بجائے علمی اصولوں کی روشنی میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ مزید برآں کتاب میں ان مسائل پر بھی گفتگو کی گئی ہے جن میں اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مصنف نے واضح کیا ہے کہ نئے پیش آنے والے سماجی، معاشی اور قانونی مسائل کے حل میں اجتہاد کس طرح مؤثر کردار ادا کرتا ہے، نیز کن معاملات میں نصوصِ قطعیہ کی موجودگی کے باعث اجتہاد کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس بحث کے ذریعے اجتہاد کے دائرۂ اختیار اور اس کی عملی حدود کو واضح کیا گیا ہے۔
کتاب کے بعد کے ابواب میں اجتہاد سے متعلق مختلف شبہات، غلط فہمیوں اور اختلافی آراء کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ مصنف نے ان مباحث میں قدیم و جدید اہلِ علم کی آراء کو نقل کرکے ان کا تجزیہ کیا ہے اور ہر مسئلے میں علمی استدلال کو بنیاد بنایا ہے۔ اس انداز سے قاری کو نہ صرف مختلف فقہی نقطہ ہائے نظر سے آگاہی حاصل ہوتی ہے بلکہ اجتہاد کے اصولی منہج کو بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں متعدد مقامات پر قرآنی آیات، احادیث، آثارِ صحابہ اور اصولِ فقہ کی معروف کتب سے استدلال کیا گیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنے مباحث کو صرف نظری گفتگو تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں بنیادی مصادر کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ اسی وجہ سے کتاب کا اسلوب استدلالی اور تحقیقی ہے۔
مجموعی طور پر یہ کتاب اجتہاد کے تصور، اس کی مشروعیت، شرائط، دائرۂ کار، مجتہد کی اہلیت، اجتہاد و تقلید کے باہمی تعلق، اختلافی مباحث اور معاصر مسائل میں اجتہاد کی اہمیت کو منظم انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب اصولِ فقہ اور اسلامی قانون کے طلبہ و محققین کے لیے ایک اہم علمی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے، خصوصاً ان تحقیقات میں جہاں اجتہاد کے اصولی اور عملی پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ مطالعہ مطلوب ہو۔